نئی دہلی،7جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)شیوسینانے مرکزپرنشانہ لگاتے ہوئے کہاہے کہ اس نے ’’نوٹ بندی کا چابک‘‘چلاکرقرض میں دبے کسانوں کو گہری مایوسی میں ڈھکیلا اور ان کے کھیتوں کوبرباد ہوجانے دیا۔ایک ایسے وقت میں ان کے شعبے کو ترقی کے لئے ایک کے بعد ایک یقین دہانیاں مل رہی ہیں، ایسے میں زرعی شعبے کے تئیں حکومت کی غفلت پر شیوسینا نے اپنے ترجمان اخبار سامنامیں سوال اٹھایا۔شیوسینا نے کہاکہ کئی سال بعد، گزشتہ سال کا مانسون کسانوں کے لئے امیدیں لے کر آیا تھا اور بھاری فصل کی پیداوارہواتھا۔لیکن نوٹ بندبدی کے چابک نے انہیں اپنی فصلوں کو مٹی کے مول فروخت پر مجبور کر دیا۔انہیں اپنا لگایا سرمایہ بھی نہیں مل پایا اور نتیجہ یہ ہوا کہ قرض میں دبے کسان بھاری خسارے میں ڈوب گئے۔شیو سینا نے کہا کہ حکومت زرعی شعبے کی ترقی کے وعدہ کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی لیکن آج وہ اس علاقے میں ٹیکس لگا دینے کے نام پر خوفزدہ کرتی رہتی ہے۔اداریہ میں کہاگیاکہ پنچایت سے لے کر شہر کارپوریشنز تک کے انتخابات جیت لینا آسان ہے۔اگر آپ کے پاس پیسے ہیں توآپ چاند پر ہورہاالیکشن بھی جیت سکتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عوام اپنی نوکرہے۔کسانوں کے جذبات کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ وہ محض ووٹ بینک نہیں ہیں۔سامنا میں لکھا ہے کہ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جب بی جے پی انتخابات میں’’سینکڑوں کروڑ ‘‘ روپے خرچ سکتی ہے تو پھر وہ قرض معافی میں ہچکچا کیوں رہی ہے؟۔شیوسینا نے کہا کہ جو لوگ ہڑتال کے دوران کاشت پیداوار کو برباد کئے جانے پر سوال اٹھا رہے ہیں، انہیں یہ جواب بھی دینا چاہئے کہ جب کسان ہڑتال نہیں کر رہے تھے، تو کیا کوئی بربادی نہیں ہو رہی تھی؟ شیوسینا نے سوال اٹھایاکہ خام تیل کی قیمتیں اپنی کم سطح پرآ گئیں لیکن کیامہنگائی کم ہوئی؟ گزشتہ سال اچھا مانسون کے چلتے بھاری پیداوار ہوئی لیکن کیا سبزیوں کی قیمتیں کم ہوئیں؟ ۔تین سال گزر گئے لیکن کیا’’ اچھے دنوں‘‘کے وعدے پورے کئے گئے؟ ۔